گوہاٹی، 16/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) اپنے زعم میں بے دھڑک اور بے لگام ہوتی جارہی آسام کی ہیمنت بسوا شرما حکومت اور وہاں کی پولیس کوگوہاٹی ہائی کورٹ نے نہ صرف لگام دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اس کے غیر منصفانہ اقدام پر شدید برہمی بھی ظاہر کی ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے گزشتہ کچھ دنوں سے ریاست میں چائلڈ میریج کے نام پر کی جارہی اندھا دھند گرفتاریوں پر نہات سخت تبصرے کئے ہیں۔جسٹس سمن شیام کی بنچ نے گرفتاری سے بچنے کے لئے داخل کی گئی ضمانت قبل از گرفتاری اور گرفتار کئے گئے مختلف افراد کی ضمانت کی عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کرتے ہوئے پولیس اور حکومت کو سخت سست کہا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر کی گئی گرفتاریوںکا جواز کہا ں ہے ؟ چائلڈ میریج کے نام پر جو گرفتاریاں ہو رہی ہیں وہ ضرورت سے زیادہ سخت اور غیرضروری محسوس ہو رہی ہیں۔ جسٹس شیام نے کہا کہ ان گرفتاریوں نے عام زندگی میں اتھل پتھل مچادی ہےلیکن یہ ایسے معاملات ہیں کہ ان میں فوری طور پر گرفتاری کی ضرورت ہے نہ حراست میں لے کر تفتیش کرنے کی ۔ ہائی کورٹ کے جج کے مطابق یہ ایسے معاملات نہیں ہیں کہ ان میں تمام دیگر کام بالائے طاق رکھ کر اتنی سخت کارروائی کی جائے۔
جسٹس سمن شیام نے پولیس کی کلاس لیتے ہوئے کہا کہ اس نے کئی ملزمین پر پوکسو جیسی سخت دفعہ کا اطلاق کردیا ہے جبکہ کئی ملزمین پر عصمت دری کی سخت دفعات عائد کی گئی ہیں۔ کیا پولیس نے ان دفعات کا اطلاق کرنے سے پہلے اپنی عقل کا استعمال کیا تھا ؟ کیا پولیس نے سوچا کہ جن لوگوں کو وہ گرفتار کررہی ہے ان میں تمام فیملی والے لوگ ہیں اور اس معاملے میں وہ ثبوت کیسے حاصل کرے گی ؟ پاکسو تو جانے دیجئے پولیس یہی بتادے کہ وہ عصمت دری کا الزام کیسے ثابت کرے گی ؟ انہوں نے تمام الزامات کو بالکل ’عجیب غریب ‘ اور نیت میں فتور والے الزامات قرار دیا اور پولیس کو خوب ڈانٹ پلائی۔
جسٹس سمن شیام نے ضمانت کی عرضیاں داخل کرنے والے تمام ملزمین کو ضمانت فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملات کسی سنگین جرم کے نہیں ہیں۔ نہ ان لوگوں پر منشیات سپلائی یا فروخت کرنے کا الزام ہے ، نہ ان پر ماضی میں کوئی پولیس کیس درج ہے ، نہ ان پر کوئی بڑی چوری کا الزام ہے تو پھر کس بنیاد پر پولیس انہیں گرفتار کرکے لائی ہے اور اب ان کی حراست مانگ رہی ہے۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ صرف قانون کے مطابق ہی کام کرے ، اپنے آقائوں کی منشا پر اگر وہ کوئی بھی کارروائی کرے گی تو یہ عدالت ان سے سخت حساب لے گی۔
جسٹس سمن شیام نےسرکار ی وکیل ڈی داس پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی اور پوچھا کہ ان ملزمین پر عصمت دری اور پاکسو کی دفعات کیس بنیاد پر لگائی گئیں یہ بات عدالت کو بھی بتائی جائے ۔ جب سرکار وکیل سے کوئی جواز نہ بن پڑا تو جج نے کہا کہ اسی لئے ہم اتنے سخت سوال اٹھارہے ہیں۔ انہوں نےکمرہ عدالت میں موجود سینئر وکیل انشومن بورا ، جو کسی دوسرے کیس کے سلسلے میں وہاں موجود تھے ، سے بھی مشورہ کیا ۔ بورا نے کہا کہ یہ معاملات جس طرح سے انجام دئیے جارہے ہیں اس کی وجہ سے سماج میں بے چینی بڑھے گی۔ حکومت چائلڈ میریج کے خلاف سبھی کی گرفتاریاں انجام دینے کے بجائے ان کی کونسلنگ بھی کرسکتی تھی اور اس کے لئے بیداری مہم بھی چلاسکتی تھی لیکن اس نے گرفتاریوں کا راستہ منتخب کیا لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد کون سی جیل میں رکھا جائے گا ؟ کیوں کہ سرکاری جیلوں میں اب قیدیوں کو رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ آسام میں بسوا شرما حکومت نے جبر و ظلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے چائلڈ میریج کے نام پر گزشتہ کچھ دنوں سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس کا جواز ہے کہ آسام میں یہ کارروائی بہت ضروری ہے کیوں کہ یہاں پر بچوں کی شادی بہت عام ہے لیکن سماجی تنظیمیں اس کارروائی کو ریاستی جبر قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی شادی کو ۵؍ ۵؍ ۱۰؍ ۱۰؍ سال ہو گئے ہیں اور ان کے کئی بچے بھی ہیں، ایسے لوگوں کو چائلڈ میریج کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے۔ اب تک کم و بیش ۳؍ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعلیٰ صفائی دے رہے ہیں کہ یہ کسی ایک کمیونٹی کو ٹارگیٹ کرنے کی کوشش نہیں ہے۔